کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ فضیلت اس کے لیے ہے جو اللہ کے لیے احتساب کرے، نہ کہ ریا، شہرت یا کسی حق کے پورا کرنے کے لیے
حدیث نمبر: 3080
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلْفٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ يَقْعُدُ حَتَّى يُوضَعَ فِي قَبْرِهِ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ وَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الأَجْرِ وَهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُوضَعَ فِي الْقَبْرِ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " ، يُرِيدُ بِهِ أَحَدَهُمَا .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے مسلمان کے جنازے کے ساتھ جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ ادا کر لی جائے پھر وہ بیٹھا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس (میت کو) قبر میں رکھ دیا جائے اور جب وہ شخص واپس آتا ہے، تو اسے دو قیراط اجر ملتا ہے یہ دنوں قیراط احد پہاڑ جتے ہوتے ہیں اور جو شخص میت کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جائے اسے ایک قیراط ملتا ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان وہ دونوں اُحد کی مانند ہوتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے: ان دونوں میں سے ایک اُحد (پہاڑ جتنا) ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3080
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3069»