کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنازہ پر نماز پڑھتے وقت اللہ جل وعلا سے اس کے لیے بہتر گھر اور بہتر اہل کی بدلہ مانگے
حدیث نمبر: 3075
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتَ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الأَشْجَعِيَّ ، يَقُولُ : صَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَارْحَمْهُ ، وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ مَنْزِلِهِ ، وَأَوْسَعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجَتِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَأَعِذْهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ " ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ ذَلِكَ الْمَيِّتَ ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز جنازہ ادا کی، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو یاد کر لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا۔ ” اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے، تو اس پر رحم کر، تو اس سے درگزر کر، تو اس کے ٹھکانے کو اچھا کر دے، تو اس کی قبر کو کشادہ کر دے، تو اسے پانی، اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے، تو اسے گناہوں سے یوں صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے، تو اس کے گھر کی جگہ اسے ایک ایسا گھر عطا کر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو اور ایسے اہل خانہ عطا کر دے جو اس کے اہل خانہ سے زیادہ بہتر ہوں اور ایسی بیوی عطا کر دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو اور اسے جنت میں داخل کر دے اور اسے جہنم سے محفوظ رکھنا اور قبر کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں:)، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا۔ ابن وہب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔