کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنازوں پر نماز پڑھتے وقت سورہ فاتحہ پڑھے
حدیث نمبر: 3072
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قُلْتُ لَهُ : أَتَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ يَا ابْنَ أَخِي ، سُنَّةٌ وَحَقٌّ " .
طلحہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا انہوں نے ایک نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے دریافت کیا: کیا آپ نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! اے میرے بھتیجے! یہ سنت اور حق ہے۔