کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قرض کے ساتھ مرنے والے پر جنازہ کی نماز نہ پڑھنا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا
حدیث نمبر: 3062
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ، وَعَلا صَوْتُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ، قَالَ : " صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ " قَالَ : وَكَانَ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالا ، فَلأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا ، فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ ، فَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ " .
امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ اپنے والد (امام باقر رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیامت کا ذکر کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار سرخ ہو جایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش زیادہ ہو جاتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی تھی یوں جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ عنقریب تم پر حملہ کر دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے: ” میں مومنین کی جان سے زیادہ ان کے قریب ہوں جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا اس کی ادائیگی میرے ذمے ہو گی یا وہ میرے سپرد ہوں گے، کیونکہ میں مومنین کے زیادہ قریب ہوں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3062
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2618)، «الجنائز» (29 - 30). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3051»