کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ہمارے بیان کردہ پہلی دو خبروں کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 3060
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا أُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا " ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ : أَنَا أَكْفُلُ بِهِ قَالَ : " بِالْوَفَاءِ ؟ " قَالَ : بِالْوَفَاءِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص (کی میت) کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو، کیونکہ اس کے زمے قرض ہے، تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اس کا ذمے دار بنتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پوری ادائیگی کا؟ انہوں نے عرض کی: پوری ادائیگی کا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص کے ذمے اٹھارہ یا شاید سترہ درہم قرض تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3060
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3049»