کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ ابو قتادہ کے قول "ہما الی" سے مراد "ہما علی" ہے
حدیث نمبر: 3059
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، وَقَالَ : " عَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : عَلَيْهِ دِينَارَانِ ، فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمَا عَلَيَّ ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ .
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جنازہ لایا گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اس کے ذمے دو دینار قرض ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان دونوں (دیناروں) کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3059
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3048»