کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: جنازے کی نماز کا بیان -
حدیث نمبر: 3057
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا دُعِيَ إِلَى جَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى ، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا قَالَ لأَهْلِهَا : " شَأْنُكُمْ بِهَا " ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : تَرْكُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْ وَصَفْنَا نَعَتَهُ ، كَانَ ذَلِكَ قَصْدَ التَّأْدِيبِ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُمَّتِهِ ، كَيْلا يَرْتَكِبُوا مِثْلَ ذَلِكَ الْفِعْلِ ، لا أَنَّ الصَّلاةَ غَيْرُ جَائِزَةٍ عَلَى مَنْ أَتَى مِثْلَ مَا أَتَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنازے (کی نماز پڑھنے کے لیے) بلایا جاتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے، اگر اس کی اچھی تعریف بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر والوں سے کہتے تھے: اسے تم خود سنبھال لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی جس کی صفت ہم نے ذکر کی ہے۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ آپ اپنی اُمت کو اس حوالے سے ادب سکھائیں تاکہ وہ اس فعل کے ارتکاب سے بچیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہی نہیں ہوتا جس میں وہ خاصیت پائی جاتی ہو جس خامی کے حامل فرد کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3057
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (109). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3046»
حدیث نمبر: 3058
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ دِينَارَيْنِ ، قَالَ : " تَرَكَ لَهُمَا وَفَاءً ؟ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " قَالَ أَبُو قَتَادَةَ : هُمَا إِلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنازہ لایا گیا، تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس کے ذمے قرض ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں دو دینار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3058
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 111). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو وهو ابن علقمة الليثي فإن حديثه لا يرتقي إلى الصحة
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3047»