کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: جنازے کو اٹھانے اور اس کے کلام کا بیان - اس بات کا استحباب کہ لوگ جنازوں کے ساتھ تیز رفتاری سے چلیں
حدیث نمبر: 3043
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ سَرِيرِهِ ، وَرِجَالٌ يُسْتَقْبَلُونَ السَّرِيرَ ، وَيُدَاسُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَقُولُونَ : رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارِكَ اللَّهُ فِيكُمْ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الْمِرْبَدِ ، لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ ، حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ ، وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِسَوْطِهِ ، وَقَالَ : " خَلُّوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّا نَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا رَمَلا " ، قَالَ : فَجَاءَ الْقَوْمُ ، وَأَسْرَعُوا الْمَشْيَ ، وَأَسْرَعَ زِيَادٌ الْمَشْيَ .
عیینہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا (اس وقت کا گورنر) زیاد ان کی چارپائی کے آگے چل رہا تھا اور کچھ لوگوں نے اپنا رخ چارپائی کی طرف کیا ہوا تھا اور وہ الٹے قدموں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے ہٹو، ہٹواللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے جب ہم راستے میں کسی جگہ پر پہنچے، تو ہماری ملاقات سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو اپنے خچر پر سوار تھے جب انہوں نے ان لوگوں کے طرز عمل کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے خچر کا رخ ان لوگوں کی طرف کیا اور اپنے درے کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، فرمایا: راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، تو ہم تقریباً دوڑتے ہوئے (تیزی سے) چلتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو لوگ آئے اور انہوں نے تیزی سے چلنا شروع کیا اور زیاد نے بھی تیزی سے چلنا شروع کیا۔