کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: میت کو کفن دینے کے طریقے، سنت اور متعلقہ احکام کا بیان - اس بات کا بیان کہ فضل بن عباس کے قول سے مراد اس تعداد سے زیادہ کی نفی نہیں تھی جو ان کے خطاب میں ذکر کی گئی
حدیث نمبر: 3036
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَقْرِئُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، فَتَمَثَّلْتُ بِهَذَا الْبَيْتِ : مَنْ لا يَزَالُ دَمْعُهُ مُقَنَّعًا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ مَدْفُوقًا فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، لا تَقُولِي هَكَذَا ، وَلَكِنْ قُولِي : وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ سورة ق آية 19 ، ثُمَّ قَالَ : فِي كَمْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : " فِي ثَلاثَةِ أَثْوَابٍ " ، فَقَالَ : كَفِّنُونِي فِي ثَوْبَيَّ هَذَيْنِ ، وَاشْتَرُوا إِلَيْهِمَا ثَوْبًا جَدِيدًا ، فَإِنَّ الْحَيَّ أَحْوَجُ إِلَى الْجَدِيدِ مِنَ الْمَيِّتِ ، وَإِنَّمَا هِيَ لِلْمِهْنَةِ أَوْ لِلْمُهْلَةِ .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھی، جب ان کا آخری وقت قریب آیا، تو میں نے یہ شعر پڑھا: ” جس کے آنسو ہمیشہ رکے رہتے ہیں۔ عنقریب وہ اچھل کر نکل آئیں گے ۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بیٹی! تم یہ نہ کہو بلکہ تم یہ پڑھو (جو قرآن کی آیت ہے) ” موت کی مدہوشی حق کے ساتھ آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے، جس سے تم بچنا چاہتے تھے۔ “ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ میں نے جواب دیا: تین کپڑوں میں، تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے ان دو کپڑوں میں کفن دے دینا اور ان دونوں کے ساتھ نیا کپڑا خرید لینا، کیونکہ زندہ شخص نئے کپڑے کا مرحوم کے مقابلے میں زیادہ محتاج ہوتا ہے یہ کام کاج کے کپڑے ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مہلت کے کپڑے ہیں۔