کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت اس کے لیے لازم ہوتی ہے جس کی لوگ خیر کی تعریف کریں کیونکہ وہ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں
حدیث نمبر: 3027
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : مَاتَ رَجُلٌ ، فَمَرُّوا بِجَنَازَتِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، وَمَرُّوا بِأُخْرَى ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " فَسَأَلَهُ عُمَرُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ شُهُودُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کا انتقال ہو گیا لوگ اس کا جنازہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے لوگوں نے اس کی برائی بیان کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: واجب ہو گئی پھر لوگ ایک دوسرے جنازے کو لے کر گزرے لوگوں نے اس کی تعریف بیان کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3027
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» - أيضا -: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3016»