کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا آدمی کے لیے دنیا میں لوگوں کی تعریف کا حکم ثابت کرتا ہے
حدیث نمبر: 3025
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِهَذَا : " وَجَبَتْ " وَقُلْتَ لِهَذَا : " وَجَبَتْ ؟ " فَقَالَ : " شَهَادَةُ الْقَوْمِ ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا اس کی اچھائی کے ہمراہ تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا اس کی برائی بیان کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بھی فرمایا واجب ہو گئی اور اس کے لیے بھی فرمایا واجب ہو گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کی گواہی کی وجہ سے (میں نے ایسا کہا: ہے) اہل ایمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3025
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الأحكام» (ص 60): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3014»