کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کے غلط مقامات سے طلب کرنے والے کو یہ وہم دلاتا ہے کہ میت کے مرنے کے بعد اس کے نیک اعمال منقطع ہو جاتے ہیں
حدیث نمبر: 3015
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلا يَدْعُو بِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمُرُهُ إِلا خَيْرًا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کے بارے میں دعا مانگے، کیونکہ جب وہ انتقال کر جائے گا، تو اس کا عمل منقطع ہو جائے گا اور مومن کی عمر صرف بھلائی میں اضافہ کرتی ہے۔ “