کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ مؤمن اور کافر کی روحیں جب قبض ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3013
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ حَضَرَتْهُ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ جُعِلَتْ فِي حَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ ، فَيُنْطَلَقُ بِهَا إِلَى بَابِ السَّمَاءِ ، فَيَقُولُونَ : مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ هَذِهِ ، فَيُقَالَ : دَعُوهُ يَسْتَرِيحُ ، فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمٍّ ، فَيُسْأَلُ مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ مَا فَعَلَ فُلانٌ ؟ مَا فَعَلَتْ فُلانَةُ ؟ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَإِذَا قُبِضَتْ نَفْسُهُ ، وَذُهِبَ بِهَا إِلَى بَابِ الأَرْضِ ، يَقُولُ خَزَنَةُ الأَرْضِ : مَا وَجَدْنَا رِيحًا أَنْتَنَ مِنْ هَذِهِ ، فَتَبْلُغُ بِهَا إِلَى الأَرْضِ السُّفْلَى " . قَالَ قَالَ قَتَادَةَ ، وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : " أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ تُجْمَعُ بِالْجَابِيَتِيْنِ ، وَأَرْوَاحُ الْكُفَّارِ تُجْمَعُ بِبُرْهُوتَ : سَبِخَةٌ بِحَضْرَمَوْتَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَا الْخَبَرُ ، رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، نَحْوَهُ مَرْفُوعًا ، الْجَابِيَتَانِ بِالْيَمَنِ ، وَبُرْهُوتَ مِنْ نَاحِيَةِ الْيَمَنِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب مومن کا آخری وقت قریب آتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں جب اس کی جان قبض کر لی جاتی ہے، تو اسے سفید رنگ کے کپڑے میں رکھا جاتا ہے فرشتے اسے لے کر آسمان کے دروازے کی طرف جاتے ہیں وہ (یعنی پہلے آسمان کے فرشتے) یہ کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ پاکیزہ بو کبھی محسوس نہیں کی، تو یہ کہا: جاتا ہے اسے چھوڑ دو اس نے راحت حاصل کر لی ہے، کیونکہ پہلے یہ غم (کی دنیا) میں تھا، تو دریافت کیا جاتا ہے، فلاں نے کیا عمل کیا فلاں نے کیا عمل کیا اور فلاں عورت نے کیا عمل کیا اور جب کافر شخص کی جان قبض کی جاتی ہے، تو اسے لے کر زمین کے دروازے پر آیا جاتا ہے زمین کے نگران کہتے ہیں: ہم نے اس سے زیادہ بدبودار کوئی چیز محسوس نہیں کی پھر وہ اسے لے کر زمین کے سب سے نچلے طبقے تک جاتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ” اہل ایمان کی روحیں ” جابیتین“ میں اکٹھی ہوئی ہیں اور کفار کی روحیں ” برہوت “ میں اکٹھی ہوتی ہیں جو ” حضرموت “ میں شورزدہ زمین ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ ہیں:) اس روایت کو معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے قتادہ سے قسامہ بن زہیر کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جابیتین یمن میں ہے اور برہوت یمن کا نواحی علاقہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3013
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني (1) صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 187). <br> (2) ضعيف. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط (1) إسناد صحيح على شرط الشيخين <br> (2) Null
تخریج حدیث «0»