کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ جب مسلمان مرتا ہے تو وہ آرام کرتا ہے اور کافر سے آرام کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 3012
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : " الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ راحت حاصل کرنے والا ہے یا اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: کون شخص راحت حاصل کرنے والا ہے اور کون وہ ہے، جس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بندہ دنیا کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے راحت حاصل کر کےاللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف چلا جاتا ہے اور جس سے راحت حاصل کی جائے وہ کافر بندہ ہے، جس سے لوگ، شہر، درخت اور جانور راحت حاصل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3012
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (2996). تنبيه!! رقم (2996) = (3007) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3001»