کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: موت اور اس سے متعلق امور کا بیان، مومن کے لیے موت کے وقت راحت، بشارت، روح کا حال، اس کے عمل اور اس پر ہونے والی تعریف کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ موت صالحین کے لیے راحت اور طالحین کے لیے تکلیف ہے
حدیث نمبر: 3007
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ " ، قُلْنَا : مَا يَسْتَرِيحُ وَيُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ وَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَبَلائِهَا وَمُصِيبَاتِهَا ، وَالْكَافِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک جنازہ سامنے آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا تو اس نے راحت حاصل کر لی ہے یا پھر اس سے راحت حاصل کر لی گئی ہے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس نے کیا راحت حاصل کی ہو گی یا اس سے کیسے راحت حاصل کی گئی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب مومن کا انتقال ہوتا ہے، تو وہ دنیا کی تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں سے راحت حاصل کر لیتا ہے اور جب کافر کا انتقال ہوتا ہے، تو لوگ، شہر، درخت اور جانور اس سے راحت حاصل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3007
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1710): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2996»