کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مرنے والے کے قریب شخص کے ساتھ برتاؤ، اس کے لیے تلقین اور اس وقت کے آداب کا بیان۔ - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص میت کے پاس ہو وہ اللہ جل وعلا سے اس کے لیے مغفرت مانگے جسے موت آئی
حدیث نمبر: 3005
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ ، فَقُولُوا خَيْرًا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا تَقُولُونَ " ، قَالَتْ : فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، وَأَعْقِبْنَا عُقْبَى صَالِحَةً " ، قَالَتْ : فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: جب تم کسی میت کے پاس جاؤ، تو اچھی بات کہو، کیونکہ تم لوگ جو کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب (میرے سابقہ شوہر) سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں کیا پڑھوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: ” اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر اور ہمیں اس کی جگہ اچھا بدل عطا کر ۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تواللہ تعالیٰ نے مجھے ان کی جگہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم (بطور شوہر) عطا کر دیئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3005
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «ابن ماجه» (1447): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2994»