کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: موت کی تمنا کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی زندگی یا موت مانگے جو اس کے لیے بہتر ہو اگر وہ دعا کرنا چاہے
حدیث نمبر: 3001
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ مُتَمَنِّيًا ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سے کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی پریشانی کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے، اگر اس نے ضرور یہ آرزو کرنی ہو، تو پھر وہ یہ کہے: اے اللہ! جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے موت دے دینا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 3001
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (683): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2990»