کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: موت کی تمنا کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی دعا مانگے
حدیث نمبر: 2999
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ ، وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا ، وَقَالَ : " لَوْلا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَنْ مَضَى مِنْ أَصْحَابِهِ ، أَنَّهُمْ مَضَوْا لَمْ يَأْكُلُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَإِنَّمَا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لا يَدْرِي أَحَدُنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ إِلا أَنْ يُنْفِقَهُ فِي التُّرَابِ ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلا نَفَقَتَهُ فِي التُّرَابِ " .
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع نہ کیا ہوتا کہ ہم موت کی دعا کریں، تو میں اس کے لیے دعا کرتا پھر انہوں نے اپنے (دنیا سے) رخصت ہو جانے والے ساتھیوں کا ذکر کیا کہ یہ حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیاوی فائدے کے طور پر) کچھ بھی نہیں پایا اور ان کے بعد ہم باقی رہ گئے اور ہم نے دنیا بھی حاصل کی ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرے؟ سوائے اس کے کہ وہ اس (مال و دولت کو) مٹی میں خرچ کرے (یعنی تعمیرات کرے) اور مسلمان کو اس کی ہر چیز میں اجر دیا جائے گا، سوائے اس چیز کے، جو اس نے مٹی میں خرچ کیا ہو (یعنی تعمیرات پر خرچ کیا ہو)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2999
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2721): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2988»