کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: انسان کی دنیاوی امیدوں، آرزوؤں اور ان کے اثرات کا ذکر - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی موت کو قریب اور اپنی امید کو دور کرے
حدیث نمبر: 2998
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا ابْنُ آدَمَ ، وَهَذَا أَجَلُهُ " وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ، ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ ، فَقَالَ : " وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” یہ آدم کا بیٹا ہے اور یہ اس کی موت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنی گدی پر رکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو آگے لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور یہاں اس کی امید ہے اور یہاں اس کی امید ہے۔ “