کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: انسان کی دنیاوی امیدوں، آرزوؤں اور ان کے اثرات کا ذکر - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس زائل ہونے والی فانی دنیا کی تعمیر کے لیے اپنی امید کو طویل کرے
حدیث نمبر: 2996
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بِالأُبُلَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا وَأُمِّي نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : خُصٌّ لَنَا نُصْلِحُهُ ، فَقَالَ : " الأَمْرُ أَسْرَعُ مِنْ ذَلِكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس وقت میں اور میری والدہ اپنے لیے چھپر بنا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے عبداللہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کی: ہم اپنے چھپر کو درست کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس سے زیادہ تیزی سے آ جائے گی۔