کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فصل: اس امت کی عمروں کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ خطاب اس وقت کے خاص لوگوں کے لیے تھا، نہ کہ عمومی طور پر
حدیث نمبر: 2989
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وأبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ ، فَقَالَ : " رَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ؟ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لا يَبْقَى مِنْهَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات کے آخری دور میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنی اس آج کی رات کے بارے میں پتہ ہے؟ آج سے ٹھیک ایک سو سال بعد ایسا کوئی شخص باقی نہیں ہو گا؟ جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2989
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» - أيضا -: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2978»