کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعا کرے جب اسے کوئی بیماری لاحق ہو
حدیث نمبر: 2976
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ ، يَقُولُ : انْصَبَّتْ عَلَى يَدَيْ مَرَقَةٌ ، فَأَحْرَقَتْهَا ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ ، فَأَحْفَظُ أَنَّهُ قَالَ : " أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ " ، وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ : " أَنْتَ الشَّافِي لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ " .
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے ہاتھ پر سالن گر گیا، اس نے اسے جلا دیا۔ میری والدہ مجھے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھلی جگہ پر تشریف فرما تھے مجھے یہ بات یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا۔ ” تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پروردگار۔ “ اور میرا غالب علم یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا تھا: ” تو شفا عطا کرنے والا ہے صرف، تو ہی شفا عطا کر سکتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2976
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [حَدَّثَنَا شُعْبَةُ] قال الشيخ: زيادة ضروريَّة من «طبعة المؤسسة»، و «الموارد» (1416)، والطبراني (19/ 240)، وغيره. وإسناده صحيح؛ لأنَّ رِوَايَة شُعبة عن سِمَاك قبل أن يَتَغَيَّر. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2965»