کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس دعا کا ذکر جو آدمی اپنے بیمار مسلمان بھائی کے لیے مانگتا ہے جس سے اس کی شفا کی امید ہو
حدیث نمبر: 2975
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مِرَارٍ : " أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، أَنْ يَشْفِيكَ " ، فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ ، عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذَلِكَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سرہانے بیٹھ جاتے تھے پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: ” میں عظیم اللہ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔ “ تو اگر اس کے آخری وقت میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری میں عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2975
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2719). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2964»