کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے بیمار بھائی کے لیے شفا کی دعا کرے تاکہ وہ صحت میں اللہ جل وعلا کی اطاعت کرے
حدیث نمبر: 2974
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ إِذَا جَاءَ الرَّجُلَ يَعُودُهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا ، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى صَلاةٍ " .
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے۔ ” اے اللہ! تو اپنے بندے کو شفا عطا کر، تاکہ وہ تیرے لیے دشمن کی آنکھ پھوڑ دے یا وہ تیرے لیے نماز کی طرف چل کے جائے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2974
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1304)، «المشكاة» (1556). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2963»