کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا بیان کہ بیمار کا عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگنا اس کے اور اس کے اہل کے لیے دعا سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 2969
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : اللَّهُمَّ بَارِكَ لِي فِي زَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي أبي سُفْيَانَ ، وَأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلْتِ اللَّهَ عَنْ آجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَآثَارٍ مَبْلُوغَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ ، لا يُعَجَّلُ مِنْهَا شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ ، فَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، أَوْ عَذَابِ الْقَبْرِ كَانَ خَيْرًا ، أَوْ كَانَ أَفْضَلَ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: اے اللہ! میرے شوہر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور میرے بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے برکت نصیب کر (یعنی انہیں لمبی زندگی دے)، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، جس کا وقت طے ہے اور جس کے نشانات تک پہنچا جائے گا اور جس کا رزق تقسیم ہو چکا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز اپنے مخصوص وقت سے پہلے تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اگر تماللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے بچائے، تو یہ زیادہ بہتر ہوتا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ افضل تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2969
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (262). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2958»