کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر جو آدمی پر لازم ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچے تو وہ اس دعا کے ساتھ مانگے
حدیث نمبر: 2966
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ : اللَّهُمَّ أُحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي وَأَفْضَلَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کوئی بھی شخص کسی دنیاوی تکلیف کے لاحق ہونے کی وجہ سے موت کی آرزو ہرگز نہ کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہئے: اے اللہ! جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے، تو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر اور افضل ہو، تو تو مجھے موت دے دینا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2966
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى (964). تنبيه!! رقم (964) = (968) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2955»