کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ بیمار پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیماری کے لیے شفا کی دعا ترک کرے اور قضاء پر بھروسہ کرے، چاہے وہ محبوب ہو یا مکروہ
حدیث نمبر: 2962
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءِ كَانَ جِبْرِيلُ يُعَوِّذُهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ : " أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ، تَنْزِلُ الشِّفَاءَ لا شَافِيَ إِلا أَنْتَ ، اشْفِ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا " ، فَلَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ ، جَعَلْتُ أَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْفَعِي يَدَكِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی دعا پڑھ کر دم کیا کرتی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیمار ہونے پر سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (وہ یہ ہے) ” تو تکلیف کو لے جا! اے لوگوں کے پروردگار، تو شفا نازل کر دے، تیرے علاوہ اور کوئی شفا عطا کرنے والا نہیں ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تھا، تو میں یہ دعا پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دم کرنے لگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم پے ہاتھ کو اٹھا لو، کیونکہ یہ ایک طویل عرصہ مجھے فائدہ دیتی رہی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2962
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (3104). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن في الشواهد
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2951»