کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا ذکر کہ فرشتے بیمار کی عیادت کرنے والے کے لیے صبح سے شام اور شام سے صبح تک استغفار کرتے ہیں
حدیث نمبر: 2958
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ زَارَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا عَمْرُو ، أَتَزُورُ حَسَنًا وَفِي النَّفْسِ مَا فِيهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا عَلِيُّ ، لَسْتَ بِرَبِّ قَلْبِي تَصْرِفُهُ حَيْثُ شِئْتَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا أَنَّ ذَلِكَ لا يَمْنَعُنِي مِنْ أَنْ أُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مُسْلِمًا إِلا ابْتَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ فِي أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَأَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ " .
عبداللہ بن یسار بیان کرتے ہیں: عمرو بن حریث، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے گئے، تو سیدنا علی بن طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اے عمرو! کیا تم حسن سے ملنے کے لیے آئے ہو جب کہ تمہارے ذہن میں کچھ اور ہے، تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ جی ہاں (میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ملنے آیا ہوں) آپ پروردگار نہیں ہیں کہ میرے دل کو جیسے چاہیں پھیر دیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں صرف تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب بھی کوئی مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کرنے کے لیے جاتا ہے، تواللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو بھیجتا ہے، جو اس شخص کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں خواہ وہ دن کی کسی بھی گھڑی میں (عیادت کے لیے جائے) اور وہ فرشتے شام تک ایسا کرتے یں اور اگر وہ رات کی کسی بھی گھڑی میں جائے، تو صبح تک (دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں)۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2958
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1367). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2947»