کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ طاعون وہ عذاب ہے جو بنی اسرائیل پر بھیجا گیا تھا
حدیث نمبر: 2954
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ : " بَقِيَّةُ رِجْزٍ ، وَعَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَهْرَبُوا مِنْهُ ، وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ " .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ ایک عذاب کا بقیہ حصہ ہے۔ یہ وہ عذاب ہے، جو بنی اسرائیل کے گروہ کی طرف بھیجا گیا تھا جب یہ کسی سرزمین پر واقع ہو، اور تم لوگ وہاں موجود ہو، تو تم لوگ وہاں سے بھاگو نہیں اور جب کسی دوسری سرزمین پر واقع ہو، تو تم وہاں جاؤ نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2954
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2943»