کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی اس شہر میں جائے جہاں طاعون پھیلا ہو یا وہاں سے اس کی وجہ سے نکلے
حدیث نمبر: 2952
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَوْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ ، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ ، وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " .
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی طاعون کے بارے میں کوئی بات سنی ہے، تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: طاعون ایک خرابی ہے، جو بنی اسرائیل کی طرف (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم سے پہلے لوگوں کی طرف بھیجی گئی تھی، تو جب تم کسی سرزمین کے بارے میں سنو کہ وہاں یہ ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2952
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (1548): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2941»
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ ، لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِيَ الْمُهَاجِرِينَ الأَوْلِينَ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : خَرَجْتَ لأَمْرٍ فَلا أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِيَ الأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ ، فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلافِهِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّي ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَا هُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ ، فَدَعَوْتُهُمْ ، فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلانِ ، وَقَالُوا : نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ ، فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ ، فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ : أَفِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللَّهِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلافَهُ نَفِرُ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خِصِبَةٌ ، وَالأُخْرَى جَدْبَةٌ ، أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخِصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ " ، قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے جب وہ ” سرغ “ کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ان کی ملاقات لشکر کے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا کر لاؤ میں ان لوگوں کو بلا کر لایا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں یہ بتایا کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے، تو ان لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس چلے جائیں جب کہ بعض کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ گنے چنے لوگ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب موجود ہیں اس لیے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ کو وبائی علاقے میں جانا چاہیئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں پھر انہوں نے فرمایا: میرے پاس انصار کو بلا کر لاؤ میں انہیں بلا کر لایا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا، تو وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کے درمیان بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے پاس قریش کے ان بوڑھوں کو بلا کر لاؤ جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے میں نے ان لوگوں کو بلایا، تو اس بارے میں ان کے دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا انہوں نے یہی کہا: کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہیئے اور اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہیئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا کہ ہم کل روانہ ہو جائیں گے آپ لوگ تیاری کر لیں، تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپاللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی (تو اتنا افسوس نہ ہوتا) اے ابوعبیدہ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا یہ اختلاف کرنا پسند نہیں آیا (انہوں نے فرمایا) ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہوئے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں آپ کا کیا خیال ہے، اگر آپ کے پاس اونٹ ہو اور آپ اسے کسی ایسی وادی میں لے کر اتریں جس کے ایک طرف سرسبز و شاداب جگہ اور دوسری طرف خشک سالی ہو، تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ اسے سرسبز جگہ پر چراتے ہیں، تو یہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہے اور اگر آپ اسے خشک جگہ پر چونے کے لیے چھوڑتے ہیں، تو آپ اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق چراتے ہیں، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے وہ اس وقت کسی کام کے سلسلے میں موجود نہیں تھے انہوں نے بتایا: اس بارے میں میرے پاس علم موجود ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سرزمین پر ہے، تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔ “ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور وہاں سے واپس آ گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2953
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2717). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2942»