کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے لیے فرط (بچوں کی موت) پیش کرے
حدیث نمبر: 2950
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لا يُولَدُ لَهُ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ بِالرَّقُوبِ ، وَلَكِنِ الَّذِي لا يُقَدِّمُ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : " فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ " قُلْنَا : الَّذِي لا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ ، وَلَكِنِ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم اپنے درمیان رقوب کیسے سمجھتے ہو راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ رقوب نہیں ہے بلکہ رقوب وہ ہے، جس کے کسی بچے کا انتقال نہ ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اپنے درمیان پہلوان کے سمجھتے ہو۔ ہم نے عرض کی: جسے کوئی شخص پچھاڑ نہ سکے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ نہیں ہے بلکہ (پہلوان وہ ہے) جو غضب کے عالم میں اپنے اوپر ق ابورکھے ۔“