کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص مصیبت سے دوچار ہو وہ استرجاع کرے اور اللہ جل وعلا سے اس سے بہتر بدل مانگے
حدیث نمبر: 2949
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ : إِنَّا لِلَّهِ وَأَنَا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي ، فَأْجُرْنِي فِيهَا ، وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا " ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا ، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ : أَبْدَلَنِي خَيْرًا مِنْهَا ، قُلْتُ فِي نَفْسِي : وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ، بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا عُمَرُ يَخْطُبُهَا ، فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ قَالَتْ : أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَقُلْ لَهَا : أَمَّا قَوْلُكِ : إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى ، فَأَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ ، فَتُكْفَيْنَ صِبْيَانَكِ ، وَأَمَّا قَوْلُكِ : إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدًا ، فَلَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ " ، فَقَالَتْ لابْنِهَا : يَا عُمَرُ ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَوَّجَهُ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا ، فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتِ ابْنَتَهَا زَيْنَبَ ، فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا ، فَيَنْقَلِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَجَاءَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : أيْنَ هَذِهِ الْمَقْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي جَوَانِبِ الْبَيْتِ ، وَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ زَيْنَبُ ؟ " قَالَتْ : جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا ، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " إِنِّي لا أَنْقُصُكِ مِمَّا أَعْطَيْتُ فُلانَةَ رَحَائَيْنِ ، وَجَرَّتَيْنِ ، وَمِرْفَقَةً حَشْوُهَا لِيفٌ " ، وَقَالَ : " إِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لَفْظُ الإِسْنَادِ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، وَالْمَتْنُ لِيَزِيدَ بْنِ هَارُونَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے کوئی مصیبت لاحق ہو وہ یہ دعا پڑھ لے۔ ” بے شک ہماللہ تعالیٰ کے لیے ہیں بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اے اللہ! میں اپنی مصیبت کے ثواب کی امید تیری بارگاہ میں رکھتی ہوں، تو مجھے اس کا اجر عطا کرنا اور اس (فوت شدہ چیز) کی جگہ مجھے بہتر بدل عطا کر دینا۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے یہ دعا پڑھ لی اور میں نے یہی کہا: کہ، تو مجھے اس سے بہتر عطا کرنا پھر میں نے سوچا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی عدت گزر گئی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی نہیں کی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی شادی نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے پیغام کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا، تو انہوں نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیں میں ایک غصے والی عورت ہوں اور میں مصیبت کا شکار عورت ہوں (یعنی بیوہ ہو چکی ہوں) میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ میں ایک غصے والی عورت ہوں، تو میںاللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا کہ وہ تمہارا غصہ ختم کر دے، جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تم مصیبت کا شکار عورت ہو (یعنی بیوہ ہو چکی ہو)، تو تمہارے بچے تمہارے لیے کفایت کر جائیں گے اور جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے، تو تمہارے موجود یا غیر موجود اولیاء میں سے کوئی بھی اس کو ناپسند نہیں کرے گا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: سے کہا: اے عمر! تم اٹھو اور اللہ کے رسول کے ساتھ (میری) شادی کر دو، تو انہوں نے ان کی شادی کروا دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، تاکہ ان کے ہاں رات بسر کریں جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو انہوں نے اپنی بیٹی زینب کو پکڑا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اس بات کی اطلاع سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ملی جو ان کے رضائی بھائی تھے، تو وہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: وہ لڑکی کہاں ہے، جس کی وجہ سے تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچائی ہے؟ پھر انہوں نے اس بچی کو لیا اور اپنے ساتھ لے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے کناروں میں نظر ڈالی اور دریافت کیا: تم نے زینب کے ساتھ کیا کیا ہے، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آئے تھے انہوں نے اس بچی کو پکڑا اور اپنے ساتھ لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے فلاں (زوجہ کو) جو کچھ دیا ہے اس میں تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کروں گا دو چکیاں ہیں دو تھیلے ہیں اور ایک گدا جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں سات دن تمہارے پاس رہوں گا، تو دوسری ازواج اکرم کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سند کے الفاظ ابراہیم بن حجاج کے نقل کردہ ہیں اور متن کے الفاظ یزید بن ہارون کے نقل کردہ ہیں۔