کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی کراہت کا ذکر کہ بخار کے درد کو گالی دی جائے کیونکہ اس سے گناہ ختم ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 2938
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ ، أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ ، وَهِيَ تُرَفْرِفُ فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ ، أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ ، تَرَفْرِفِينَ ؟ " قَالَتِ : الْحُمَّى لا بَارِكَ اللَّهُ فِيهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَسُبِّي الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اُم سائب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ام مسیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ کپکپا رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے ام سائب (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اے ام مسیب تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں کپکپا رہی ہو؟ اس نے عرض کی: بخار ہےاللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بخار کو برا نہ کہو کیوں کہ یہ انسان کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔