کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ بیماریاں اور امراض، چاہے کم ہوں، مسلمان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
حدیث نمبر: 2928
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ هَذِهِ الأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَاذَا لَنَا مِنْهَا ؟ فَقَالَ : " كَفَّارَاتٌ " فَقَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ قَلَّتْ ، قَالَ : " وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا " قَالَ : فَدَعَا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ ، وَأَنْ لا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلا عَنْ عُمْرَةٍ وَلا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلا صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ ، قَالَ : فَمَا مَسَّ إِنْسَانٌ جَسَدَهُ إِلا وَجَدَ حَرَّهَا حَتَّى مَاتَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : زَيْنَبُ هَذِهِ هِيَ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، وَالَّذِي دَعَا عَلَى نَفْسِهِ هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا کیا خیال ہے یہ بیماریاں جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں ہمیں اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کفارہ بن جاتی ہیں اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اگر یہ تھوڑی ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ کانٹا لگے یا اس سے بھی کم ہو۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنے لیے یہ دعا کی کہ اسے مرتے دم تک بخار رہے، لیکن وہ بخار اس کے لیے حج یا عمرے یا اللہ کی راہ میں جہاد یا باجماعت نماز میں رکاوٹ نہ بنے۔ راوی بیان کرتے ہیں: جو بھی شخص اس کے جسم کو ہاتھ لگاتا تھا اسے اس کی تپش محسوس ہوتی تھی، یہاں تک کہ اس شخص کا انتقال ہو گیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زینب نامی راوی خاتون زینب بنت کعب بن مالک ہیں اور جن صاحب نے اپنے بارے میں دعا کی تھی وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں۔