کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا اپنے بندے کے گناہوں کی سزا دنیا میں اس کے جسم پر مصیبتوں کے ذریعے دے سکتا ہے
حدیث نمبر: 2923
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلا تَلا هَذِهِ الآيَةَ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 ، فَقَالَ : إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ مَا عَلِمْنَا ، هَلَكْنَا إِذَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " نَعَمْ ، يُجْزَى بِهِ فِي الدُّنْيَا مِنْ مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ مِمَّا يُؤْذِيهِ " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔ “ اس شخص نے کہا: ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں ان سب کا بدلہ ملے گا؟ اس صورت میں، تو ہم ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! آدمی کو دنیا میں آزمائش کی شکل میں اس کا بدلہ مل جائے گا وہ آزمائش جو اس کے جسم کو لاحق ہوتی ہے اور اسے تکلیف پہنچاتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2923
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 152)، «الروض» (819). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح غير يزيد بن أبي يزيد فقد روى عنه جمع وذكره المؤلف في الثقات
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2912»