کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ بلائیں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوں پر اس چیز سے زیادہ تیزی سے آتی ہیں جو اپنی انتہا تک لٹکائی جاتی ہے یا اپنی منزل تک بہتی ہے
حدیث نمبر: 2922
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغَفَّلِ ، يَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْبَلايَا أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے آزمائشیں اس کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتی ہیں جتنی تیزی سے سیلابی پانی اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2922
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الصحيحة» (1586). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2911»