کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ بلائیں انبیاء پر سب سے زیادہ آتی ہیں، پھر سب سے افضل اور پھر اس کے بعد والوں پر
حدیث نمبر: 2921
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءً ؟ قَالَ : " الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ ، فَمَا يَبْرَحُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَمْشِيَ عَلَى الأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " .
مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے زیادہ شدید آزمائش کسے لاحق ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کو پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) بندے کو اس کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اور وہ آزمائش مسلسل بندے کے ساتھ رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ زمین پر ایسی حالت میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔