کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ جتنا زیادہ مضبوط مسلمان کا دین ہو، اس کی آزمائش اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، اور جس کا دین کمزور ہو اس کی آزمائش ہلکی کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 2920
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاءً ؟ قَالَ : " الأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ ، يُبْتَلَى النَّاسُ عَلَى قَدْرِ دِينِهِمْ ، فَمَنْ ثَخُنَ دِينُهُ ، اشْتَدَّ بَلاؤُهُ ، وَمَنْ ضَعُفَ دِينُهُ ضَعُفَ بَلاؤُهُ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيُصِيبَهُ الْبَلاءُ حَتَّى يَمْشِيَ فِي النَّاسِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " .
سیدنا سعد رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: سب سے زیادہ آزمائش کس کو لاحق ہوتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کو پھر درجہ بدرجہ (نیک لوگوں کو) لوگوں کو ان کے دین کے حساب سے آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے، جس کا دین مضبوط ہوتا ہے اس کی آزمائش شدید ہوتی ہے، جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی کمزور ہوتی ہے آدمی آزمائش میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا (یعنی آزمائش کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2920
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (143). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أنه منقطع المسيب وهو ابن رافع لم يسمع من سعد
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2909»