کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ صالحین کی خبریں بتانے کا مقصد نفس پر مصیبتوں کو آسان کرنا ہے
حدیث نمبر: 2917
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِشَيْءٍ قَسَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَدْلَ فِي هَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى ، قَدْ كَانَ يُصِيبُهُ أَشَدُّ مِنْ هَذَا ، ثُمَّ يَصْبِرُ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، تو ایک شخص نے کسی چیز کے بارے میں یہ کہا: کہ اس میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اللہ کے رسول کو اس بارے میں ضرور بتاؤں گا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے انہیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن پھر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔