کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کی مثال کھیتی سے دی کہ وہ کثرت سے جھکتی ہے
حدیث نمبر: 2915
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ لا تَزَالُ الرِّيحُ تُفِيئُهُ ، وَلا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالشَّجَرَةِ الأَرْزِ لا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مومن کی مثال کھیت کی طرح ہے، جسے مسلسل ہوا ادھر اُدھر جھکاتی رہتی ہے اسی طرح مومن کو بھی ہمیشہ آزمائش لاحق رہتی ہے اور منافق کی مثال اخروٹ کے درخت کی طرح ہے، جو لہراتا نہیں ہے، یہاں تک کہ (ایک ہی مرتبہ) اسے جڑ سے اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2915
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2283 و 2284): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2904»