کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی دلیل کہ اللہ جل وعلا اپنے بندوں کے لیے خیر کی خواہش رکھتا ہے جب وہ اس کی سزا دنیا میں جلد دیتا ہے
حدیث نمبر: 2911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، أَنَّ رَجُلا لَقِيَ امْرَأَةَ كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَجَعَلَ يُلاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ : مَهْ ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ بِالشِّرْكِ وَجَاءَ بِالإِسْلامِ ، فَتَرَكَهَا وَوَلَّى فَجَعَلَ يَلْتَفِتُ خَلْفَهُ وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا حَتَّى أَصَابَ وَجْهُهُ حَائِطًا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَأَخْبَرَهُ بِالأَمْرِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا " ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا ، عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ ذَنْبَهُ ، حَتَّى يُوَافِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَائِرٌ " .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی ایک فاحشہ عورت کے ساتھ ملاقات ہوئی اس نے اس کے ساتھ خوش فعلیاں شروع کیں، یہاں تک کہ اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا، تو اس عورت نے کہا: رک جاؤ، کیونکہاللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے اور اسلام آ گیا ہے اس شخص نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور منہ پھیر کر چلا گیا وہ مڑ کر اپنے پیچھے دیکھتا رہا وہ عورت بھی اس کی طرف دیکھتی رہی، یہاں تک کہ اس شخص کا چہرہ ایک دیوار پر لگ گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا اس نے سارے واقعہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم ایک ایسے بندے ہو، جس کے بارے میںاللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشکاللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے، تو اس کے گناہ کی سزا اسے جلدی (یعنی دنیا میں ہی) دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے بارے میں برا ارادہ کرے، تو اسے گناہ کرنے دیتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا پورا بدلہ اسے دے گا یوں جیسے وہ عائر (یعنی گناہ سے پاک) ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2911
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح المرفوع منه، دون قوله: «أَنْتَ عَبْدٌ ... خَيْراً»، ودون القصة* - «الصحيحة» (1220). * [ودون القصة] قال الشيخ: أقول: وَإِنَّمَا ضَعَّفتُ القصَّةَ وما ذكرتُه قَبلَها؛ لأن الحديث فيه عنعنة الحسن البصري، ولم نجد لذلك شاهدا، وصحَّحت المرفوع منه؛ لأنَّ له شاهدا حسنا من حديث أنس، مُخَرَّج في «الصحيحة» مع هذا الحديث. ولم يلاحظ هذا الفرق بين الحديثين المُعَلِّقُ على هذا الكتاب (7/ 173 - طبع المؤسسة)؛ فَإِنَّهُ قَلَبَ هذه الحقيقة العلميَّة؛ فجعل حديث أنس - الأقلَّ لَفظاً وَمَعنَى - شَاهِداً لحديث ابن مُغَفَّل - الأكثر لفظاً ومعنى -؛ الأمر الَّذِي لا يستقيم شرعا ولا عقلاً، وله من مثل هذا الشيء الكثير!. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح لولا عنعنة الحسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2900»