کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ اپنی مرضی سے اپنے بندوں کو ان کے گناہوں کی سزا دنیا میں دے سکتا ہے تاکہ وہ اس کی تطہیر ہو
حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ الصَّلاحُ بَعْدَ هَذِهِ الآيَةِ : لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 وَكُلُّ شَيْءٍ عَمِلْنَا جُزِينَا بِهِ ؟ فَقَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللأْوَاءُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " هُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ " .
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے عرض کی: اس آیت کے بعد بہتری کیسے ہو سکتی ہے؟ ” نہ وہ تمہاری آرزوؤں کے مطابق ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کے مطابق ہے، جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ مل جائے گا۔ “ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:) تو کیا ہم جو بھی عمل کریں گے ہمیں اس کا بدلہ ملے گا؟ نبی اکرم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر!اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے ہو؟ کیا تم غمگین نہیں ہوتے ہو؟ کیا تمہیں پریشانیاں لاحق نہیں ہوتی ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے، جس کی تم لوگوں کو جزا دی جائے گی۔