کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی پر لازم ہے کہ بلاؤں کے متواتر ہونے پر دین پر ثابت قدم رہے
حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صُلَيْحٍ بِوَاسِطَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِرِيحٍ طَيْبَةٍ ، فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الرِّيحُ ؟ " قَالَ : هَذِهِ رِيحُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلادِهَا ، بَيْنَمَا هِيَ تَمْشُطُ بِنْتَ فِرْعَوْنَ ، إِذْ سَقَطَ الْمِدْرَى مِنْ يَدَهَا ، فَقَالَتْ : بِسْمِ اللَّهِ ، فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ : أَبِي ؟ قَالَتْ : بَلْ ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ ، قَالَتْ : وَإِنَّ لَكَ رَبًا غَيْرَ أَبِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، اللَّهُ ، قَالَتْ : فَأُخْبِرُ بِذَلِكَ أَبِي ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ : أَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ، فَأَمَرَ بِنُقْرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ ، فَأُحْمِيَتْ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ يُلْقِي وَلَدَهَا وَاحِدًا وَاحِدًا ، حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى وَلَدٍ لَهَا رَضِيعٍ ، فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ اثْبُتِي ، فَإِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک پاکیزہ خوشبو کے پاس سے ہوا، تو آپ نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کس چیز کی خوشبو ہے، تو انہوں نے بتایا: یہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی اسی دوران اس کے ہاتھ سے کنگھی گر گئی، تو اس نے (کنگھی کو اٹھاتے ہوئے) بسم اللہ کہا: فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیا میرے والد؟ اس عورت نے جواب دیا: جی نہیں بلکہ میرا اور تمہارا پروردگاراللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے دریافت کیا: کیا میرے باپ کے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے؟ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاںاللہ تعالیٰ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میں یہ بات اپنے والد کو بتا دوں۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو فرعون کی بیٹی نے فرعون کو یہ بات بتا دی فرعون نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے دریافت کیا: کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی پروردگار ہے اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں میرا اور تمہارا پروردگاراللہ تعالیٰ ہے، تو فرعون نے سیسہ پگھلانے کا حکم دیا اسے پگھلا دیا گیا اس عورت نے اس سے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے اس نے جواب دیا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے (آگ میں) ڈالتا رہا یہاں تک کے اس کے دودھ پیتے بچے کی باری آئی، تو اس بچے نے کہا: اے امی جان! آپ ثابت قدم رہیئے گا آپ حق پر ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2903
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (880) *. * قال الشيخ: وَأَمَّا قول المُعَلِّق على «طبعة المؤسسة» (7/ 164 و 165): «إِسنادُه قَويٌّ»! فهو غفلة أو تغافل عن كون حماد بن سلمة سَمِعَ من عطاء قبل اختلاطه - أيضا -. ثُمَّ إِنَّ في مَتنِه نكارة مُخَالفَة لبعض الأحاديث الصحيحة؛ كما هو مُبَيَّنٌ في «الضعيفة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2892»