کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ جب آدمی مصیبتوں سے امتحان دیا جائے تو اسے اپنے نفس کو اللہ جل وعلا کو ناپسندیدہ چیزوں کی طرف جانے سے روکنا چاہیے، سوائے آنکھوں کے آنسوؤں اور دل کے غم کے
حدیث نمبر: 2902
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وُلِدَ لِيَ اللَّيْلَةَ غُلامٌ ، فَسَمَّيْتُهُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ " ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتْبَعَهُ ، فَانْتَهَى إِلَى أَبَى سَيْفٍ وَهُوَ يَنْفُخُ فِي كِيرِهِ ، وَالْبَيْتُ مَمْتَلِئٌ دُخَانًا ، فَأَسْرَعْتُ الْمَشْيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا سَيْفٍ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَأَمْسَكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّبِيِّ ، فَضَمَّهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلا نَقُولُ إِلا مَا يَرْضَى رَبَّنَا وَإِنَّا بِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میرے ہاں گزشتہ رات بچے کی پیدائش ہوئی ہے میں نے اپنے جد امجد کے نام پر اس کا نام ابراہیم رکھا ہے (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ کے ایک سنار کی بیوی کے سپرد کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے جس وقت آپ ابوسیف کے گھر پہنچے وہ اس وقت اپنی بھٹی میں آگ لگا رہا تھا۔ پورا گھر دھوئیں سے بھرا ہوا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے تیزی سے چلتا ہوا گیا اور میں نے بتایا: اے ابوسیف! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، تو وہ رک گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو بلوایا اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے کہا:۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ بچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آخری سانس لے رہا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، دل غمگین ہے اور ہم وہی کہتے ہیں، جس سے ہمارا پروردگار راضی ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری وجہ سے غمگین ہیں۔ “