کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی پر لازم ہے کہ ہر اس آزمائش میں صبر کرے جس سے وہ امتحان دیا جائے، چاہے وہ آزمائش معمولی ہو
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا ، فَجَلَسَ مُغْضَبًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِيُسْأَلُ الْكَلِمَةَ فَمَا يُعْطِيهَا ، فَيُوضَعُ عَلَيْهِ الْمِنْشَارِ ، فَيَشُقُّ بِاثْنَيْنِ ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُمْشَطُ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ ، وَمَا يَصْرِفُهُ ذَاكَ عَنْ دِينِهِ ، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ " .
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں مشرکین کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے عرض کی کیا آپاللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب کی حالت میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں سے کلمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تھا تو آرے کو اس پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی اور بعض اوقات کسی شخص پر (لوہے کی بنی ہوئی، کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے گزر کر اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ البتہ تم لوگ جلد بازی کا اظہار کر رہے ہواللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک ایک سوار صنعاء سے چل کر حضر موت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا۔