کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص دنیا میں مصیبت سے دوچار ہو اسے صبر کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2895
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ تَبْكِي ، فَقَالَ : " يَا هَذِهِ ، اصْبِرِي " ، فَقَالَتْ : إِنَّكَ لا تَدْرِي مَا مُصَابِي ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدَ ذَلِكَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْهُ ، فَقَالَتْ : لَمْ أَعْرِفْكَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عورت! صبر سے کام لو۔ اس نے کہا: آپ نہیں جانتے مجھے کیا مصیبت لاحق ہوئی ہے، بعد میں اس خاتون کو بتایا گیا وہ اللہ کے نبی تھے۔ وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی: میں آپ کو پہچانی نہیں تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا / حدیث: 2895
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الجنائز» (22)، ق أتم منه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2884»