کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس وضاحت کا ذکر کہ معراج کا واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں آنکھوں سے دیکھا گیا۔
حدیث نمبر: 56
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلا فِتْنَةً لِلنَّاسِ سورة الإسراء آية 60 ، قَالَ : " هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
ارشاد باری تعالیٰ ہے)
” ہم نے جو خواب تمہیں دکھائے ہیں، ہم نے انہیں لوگوں کے لئے آزمائش بنایا ہے ۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ وہ خواب ہیں، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات دکھائے گئے، جب آپ کو معراج کروائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإسراء / حدیث: 56
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (1/ 201 / 462): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح. علي بن حرب الطائي: صدوق، روى عنه النسائي، وباقي السند على شرطهما، وسفيان هو ابن عيينة.