کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل و علا نے نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس دکھایا تاکہ آپ ﷺ اسے دیکھیں اور قریش کو اس کی تفصیل بیان کریں جب انہوں نے معراج کو جھٹلایا۔
حدیث نمبر: 55
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ ، قُمْتُ فِي الْحِجْرِ ، فَجَلَّى الِلَّهِ لِي بَيْتَ الْمَقَدْسِ ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بیت المقدس کو ظاہر کر دیا، تو میں ان لوگوں کو اس کی نشانیاں اسے دیکھ، دیکھ کر بیان کرنے لگا ۔“
جب قریش نے مجھے جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے بیت المقدس کو ظاہر کر دیا، تو میں ان لوگوں کو اس کی نشانیاں اسے دیکھ، دیکھ کر بیان کرنے لگا ۔“