کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - نبی کریم ﷺ کے اس مشاہدے کا ذکر کہ آپ ﷺ نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا محل جنت میں دیکھا۔
حدیث نمبر: 54
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَأَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقُلْتُ : لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ " فَقَالُوا : لِفَتًى مِنْ قُرَيْشٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ لِي ، قُلْتُ : " مَنْ هُوَ ؟ " قِيلَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا أَبَا حَفْصٍ لَوْلا مَا أَعْلَمُ مِنْ غَيْرَتِكَ لَدَخَلْتُهُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَغَارُ عَلَيْهِ ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَغَارُ عَلَيْكَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” میں جنت میں داخل ہوا، وہاں سونے سے بنا ہوا ایک محل تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا: قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا ہے۔ میں نے سمجھا کہ شاید یہ میرا ہے، میں نے دریافت کیا: یہ کس کا ہے؟ تو بتایا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے ۔“
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:)
اے ابوحفص! مجھے تمہارے مزاج کی تیزی کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس کے اندر چلا جاتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
یا رسول اللہ! میں جس شخص پر بھی غصہ کر لوں لیکن آپ پر غصہ نہیں کر سکتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإسراء / حدیث: 54
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1423). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو نصر التمار: هو عبد الملك بن عبد العزيز، وأبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب البصري.