کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ان خطباء کا بیان جنہیں نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات دیکھا جو صرف قول پر اعتماد کرتے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ خَتَنُ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي رِجَالا تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِضَ مِنْ نَارٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ " ، فَقَالَ : الْخُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ ، يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ ، وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا يَعْقِلُونَ قَالَ الشَّيْخُ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو عَتَّابٍ الدَّلالُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَوَهُمْ فِيهِ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ زُرَيْعٍ أَتْقَنُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِنْ مِثْلِ أَبِي عَتَّابٍ وَذَوِيهِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:
” جس رات مجھے معراج کروائی گئی اس رات میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ آگ کی قینچیوں کے ذریعے ان کے ہونٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کی اُمت کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے تھے اور خود کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے، تو کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے تھے؟ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ابوعتاب نے ہشام کے حوالے سے مغیرہ کے حوالے سے مالک بن دینار کے حوالے سے ثمامہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، کیونکہ یزید بن زریع نامی راوی ابوعتاب جیسے دو سو آدمیوں سے زیادہ ” متقن “ ہے۔
” جس رات مجھے معراج کروائی گئی اس رات میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ آگ کی قینچیوں کے ذریعے ان کے ہونٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ میں نے دریافت کیا: اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کی اُمت کے خطیب ہیں، جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے تھے اور خود کو بھول جاتے تھے، حالانکہ وہ لوگ کتاب کی تلاوت کرتے تھے، تو کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے تھے؟ شیخ فرماتے ہیں: یہ روایت ابوعتاب نے ہشام کے حوالے سے مغیرہ کے حوالے سے مالک بن دینار کے حوالے سے ثمامہ کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اور انہیں اس میں وہم ہوا ہے، کیونکہ یزید بن زریع نامی راوی ابوعتاب جیسے دو سو آدمیوں سے زیادہ ” متقن “ ہے۔